This is Short Moral Stories in Urdu for kids. Just read it and share with your friends and family. So they also enjoy this story. For more stories Just Go to this link Urdu Stories
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل تھا اس میں بہت سے جانور اور ایک ٹارزن رہتا تھا ٹارزن اور سب جانور بہت خوشی سے رہ رہے تھے ٹارزن سب کی مدد کرتا تھا ٹارزن کی دو خاص دوست تھے ایک کالو شیر تھا اور دوسرا چھوٹا بندر تھا. ایک رات کیا ہوا یہ سب سو رہے تھے اور کالو شیر کو پیاس لگی اور وہ پانی کی تلاش میں نکلا لیکن اس نے محسوس کیا کہ کچھ لوگ ہیں

جو جنگل میں گھوم رہے ہیں اور وہ ان کے پیچھے چلتا رہا تو کچھ دیر بعد اسے پتہ چلا کہ وہ لوگ شکاری ہیں اور جنگل میں شکار کرنے کے لیے ائے ہیں۔تو اگلی صبح اس نے یہ بات ٹارزن کو بتائی تو ٹارزن نے ایک اہم اعلان کیا کہ سب جانور اج شام کو میرے پاس ا جائیں۔ شام ہوتے ہی سب جانور ٹارزن کے پاس اگئے اور ٹارزن نے ان سب کو بتایا کہ ہمارے جنگل میں کچھ لوگ شکار کے لیے اگئے ہیں تو اب ہم سب کو ہوشیار رہنا پڑے گا۔

اب پھر سے رات ہو گئی اور سب کے سب جانور اور ٹارزن جاگا رہا اور ان میں سے کوئی بھی نہیں سویا۔ اور وہ ان شکاریوں کی تلاش میں تھے۔ لیکن اس رات ان کی جنگل میں کوئی شکاری نہیں ایا تو اگلی صبح ٹارزن نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ شاید شکاری نہیں تھے وہ لوگ غلطی سے جنگل میں اگئے تھے تو سب جانور ان شکاریوں کا واقعہ بھول گئے اور خوشی خوشی جنگل میں رہنے لگے۔ لیکن پھر کچھ دنوں بعد جنگل میں خبر پھیلی کہ ایک بندر کا بچہ گم ہو گیا ہے یہ خبر تازن کے پاس ائی اور ٹارزن نے اعلان کیا کہ جو کوئی جانور بندر کے بچے کے بارے میں بتائے گا اس کو نام دیا جائے بندر کے بچے کے بارے میں بتائے گا اس کو انعام دیا جائے گا اور سب اس بندر کے بچے کو ڈھونڈنے لگے لیکن وہ نہیں ملا تو کالو شیر نے کہا کہ یہ وہی شکاری ہوں گے اور اس بندے کے بچے کو لے گئے ہوں گے۔ تو پھر اب کیا تھا ٹارزن نے ایک مرتبہ پھر اعلان کیا کہ اب ہم میں سے کچھ جانور رات کو پہرا دیں گے اور دیکھیں گے کہ کوئی شخص ہمارے جنگل میں نہ ائے۔ پھر ایسا ہی ہوا کہ ہر رات کوئی نہ کوئی جانور جنگل میں پہرا دیتا تھا۔سب صحیح چل رہا تھا کہ اچانک ایک رات جب بندر پہرا دے رہے تھی تو انہیں محسوس ہوا کہ کچھ لوگ جنگل میں اگئے ہیں انہوں نے جلدی سے ٹارزن کو یہ خبر دی کہ جنگل میں کچھ لوگ اگئے ہیں اور ٹارزن نے جلدی سے اعلان کیا کہ سب جانور میرے پاس ا جائے۔ اور جب سب جانور ٹارزن کے پاس اگئے تو ٹارزن نے ان سب کو لیا اور ان شکاریوں کو پکڑ لیا اور ان سے پوچھا کہ تم اس جنگل میں کیوں ائے ہو تو وہ کوئی شکاری نہیں تھے انہوں نے کہا کہ جب ہم پہلے اس جنگل میں ائے تھے تو یہ ایک بندر کا بچہ بیمار تھا اور ہمیں ملا تو ہم اس کو اپنے ساتھ لے گئے اور اس کو دوائی لے کر دی اور اس کی دیکھ بھال کی تاکہ وہ تندرست ہو جائے اور اب ہم اس بچے کو دوبارہ جنگل میں چھوڑنے کے لیے ائے ہے کہ یہ اپنے گھر والوں کے ساتھ رہے اور اب اس کی بیماری بھی ختم ہو گئی ہے

یہ ساری بات سن کر ٹارزن اور جنگل والے بہت خوش ہوئے اور انہوں نے ان اچھے لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور پھر ان کو کچھ پھل تحفے میں دیے اور وہ سب لوگ جنگل سے چلے گئے اور ایک مرتبہ پھر سے سب جنگل والے اور ٹازن خوشی خوشی سے اپنے جنگل میں رہنے لگے اسی کے ساتھ اس کہانی کا اختتام ہوا۔

