ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بچہ رہتا تھا جس کا نام حمزہ تھا حمزہ کو نئی نئی چیزیں دریافت کرنے کا بہت شوق تھا وہ ہر وقت کسی نئی چیز کو دریافت کرنے میں مصروف رہتا تھا۔ ایک دن حمزہ جنگل میں گھوم رہا تھا تو اسے ایک بوت بڑا درخت نظر ایا وہ درخت کے پاس گیا اور درخت کو دیکھنے لگا تھوڑی ہی دیر بعد اس نے دیکھا کہ درخت کی پاس ایک چمکتی ہوئی چابی پڑی ہوئی ہے

اس نے وہ چابی اٹھا لی اور بہت خوش ہوا کہ اسے ایک چابی مل گئی ہے اور وہ تھوڑا اگے چلا تو اس کی نظر ایک دروازے کے اوپر پڑی وہ دروازہ ایک بہت پرانا اور قدیمی دروازہ تھا جو دکھنے میں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ دروازہ کہیں روز سے نہیں کھلا۔تو اس نے سوچا کیوں نہ اس دروازے کو اس چابی سے کھولا جائے جو اس کو ملی تھی اور جب اس نے ایسا کیا تو وہ دروازہ کھل گیا اور حمزہ اس دروازے سے ایک جادوئی دنیا کے اندر چلا گیا اس جادوئی دنیا میں سب جانور اپس میں باتیں کر رہے تھے اور حمزہ ان کی باتوں کو سن اور سمجھ رہا تھا پہلے تو حمزہ تھوڑا سا ڈرا لیکن بعد میں وہ بہت خوش ہوا اور سب جانوروں کے ساتھ اس نے بہت باتیں کی اور ان جانوروں نے حمزہ کو بتایا کہ یہ ہماری جادوئی دنیا ہے اس کا دروازہ بہت سالوں سے بند تھا اور اس کو کوئی بھی کھول نہیں رہا تھا اج تم ائے ہو اور تم نے کھولا ہے ہم سب بہت خوش ہیں حمزہ نے ان کو سارا واقعہ بتایا کہ اس کو اس دروازے کی چابی کیسے ملی اور کس طرح وہ یہاں تک پہنچا اب وہ صادق جانور حمزہ کے دوست بن چکے تھے اور حمزہ نے وہاں ان کے ساتھ خوب کھیلا اب شام کا وقت ہو گیا تھا اور حمزہ نے ان سب جانوروں کو کہا کہ میں کل دوبارہ اؤں گا اور اپنے دوستوں کو بھی ساتھ لاؤں گا اور ہم سب مل کر کھیلیں گے اور کچھ ہی دیر بعد حمزہ اس دروازے سے واپس نکل کر جنگل میں ایا اور وہ بہت خوش تھا کہ اج اس نے ایک نئی جگہ دریافت کر لی ہے تو اب کیا تھا جب بھی حمزہ اداس ہوتا تو وہ اسی دروازے سے اس جادوئی دنیا میں چلا جاتا اور سب کے ساتھ کھیلتا

پھر سب جانوروں نے حمزہ کو کہا کہ وہ اپنے دوست کو بھی ساتھ لے کر ائے تاکہ وہ سب جانور بھی حمزہ کے دوستوں کے ساتھ کھیل سکیں اور ہمسا نے ان کو کہا کہ میں اب اپنے ساتھ اپنے دوستوں کو ضرور لے کر اؤں گا اور اگلی صبح ہمزہ اٹھا اور اس نے اپنے سب دوستوں کو اکٹھا کیا اور ان سب کو یہ کہانی سنائی اور ان کو یہ بھی بتایا کہ میں اج شام کو تم سب کو اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا تو پھر کیا تھا جیسے ہی شام ہوئی سب لوگ حمزہ کے گھر اگئے اور کہنے لگے کہ ہمیں بھی وہ جادوئی جگہ دکھاؤ اور پھر سب کے سب مل کر حمزہ کے ساتھ جنگل مئی کی اور حمزہ نے اسی جادوئی چابی سے جادوئی دروازہ کھولا اور سب کو ایک جادوئی دنیا دکھائی جو کہ حیرت انگیز تھی سب چاندوں سے مل کر پہلے تو پریشان ہوئے لیکن بعد میں جو باتیں حمزہ نے بتائی تھی وہ سچ ہو گئی کہ یہ سب جانور بہت اچھے ہیں اور ان کے ساتھ کھیلنے میں سب کو بہت مزہ ایا سب نے حمزہ اور ان جانوروں کے ساتھ مل کر بہت زیادہ کھیلا اور کھانا بھی کھایا جانور بھی حمزہ کے تمام دوستوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور اسی کے ساتھ شام ہو گئی اور حمزہ نے ان جانوروں اور اپنے دوستوں کو کہا کہ اب ہمیں جانا چاہیے اور اسی کے ساتھ حمزہ کے سارے دوست حمزہ کے ساتھ واپس اس جادوئی دنیا سے باہر اگئے اور اپنے اپنے گھر چلے گئے اور اسی طرح جب بھی دوستوں کا اور حمزہ کا جانوروں سے ملنے کا دل کرتا تو وہ اسی چادری دنیا میں چلے جاتے


